کراچی (پی این پی) سندھ میں ایم پاکس نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا اور 4 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 3 کی تصدیق ہوگئی۔
نجی ٹی وی چینل ’’ ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق سندھ انفیکشن ڈیزز ہسپتال نیپا میں 3 تصدیق شدہ اور ایک مشتبہ کیس رپورٹ ہوا، ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ اسپتال میں مجموعی طور پر ایم پاکس کے 3 کیسز رپورٹ ہوئے ۔
ذرائع نے بتایا کہ 2 کیسز کا تعلق اندرون سندھ جبکہ ایک کیس کا تعلق کراچی سے ہے، ایک مشتبہ کیس کی ٹیسٹ رپورٹ آنا باقی ہے۔ اندرون سندھ سے تعلق 2 کیسز میں باپ اور بیٹی شامل ہیں۔
ایک تصدیق شدہ کیس کا تعلق کراچی سے ہے جس کی عمر 46 سال اور رہائش فیڈرل بی ایریا کی ہے۔ ذرائع کے مطابق تنیوں مریضوں کی پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی۔
حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد سندھ میں رواں سال ایم پاکس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 39 جبکہ کراچی میں مجموعی طور پر تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 ہوگئی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے اور اس وائرس کا تعلق چیچک کے وائرسز کے خاندان سے ہے۔
ماہرین کے مطابق ایم پاکس کی نمایاں علامت جسم پر دانے اور دردناک یا خارش والے زخم ہیں جبکہ بخار، سر، جسم میں درد اور کمزوری ہوسکتی ہے اسکے علاوہ ایم پاکس میں گردن، بغل یا رانوں کے غدود ابھر سکتے ہیں۔
ایم پاکس کے دانے چہرے، ہاتھوں، پاؤں، منہ، گلے اور جسم کے دیگر حصوں پر ظاہر ہوسکتے ہیں جبکہ متاثر ہونے کے بعد 21 دن میں علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ ایم پاکس متاثرہ شخص سے قریبی جسمانی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے جبکہ متاثرہ شخص کے دانوں، زخموں یا جلد سے براہِ راست رابطہ، کپڑے، تولیے اور بستر استعمال کرنے سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم پاکس سے بچاؤ کے لیے متاثرہ شخص سے قریبی رابطے سے گریز ضروری ہے، ایم پاکس کے مریض کو صحت یابی تک دوسروں سے الگ (آئسولیشن) میں رہنا چاہیے جبکہ ہاتھوں کی صفائی اور آلودہ اشیا سے بچاؤ وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرسکتا ہے۔
PNP
Comments are closed.