by Rao Imran Suleman
Rao Nama

اماراتی صدر نے7 اکتوبر حملے سے پہلے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا،اسرائیلی اخبار

تل ابیب: اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے سے تقریباً 10 روز قبل متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید نے ذاتی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے ملکی سکیورٹی حکام کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی اور اس اہم معلومات پر کوئی کارروائی بھی نہیں کی۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ میں صحافی شلومی ایلڈر اور روتھ یووال کی نئی کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے، جو دنیا بھر کے اعلیٰ حکام سمیت درجنوں ذرائع کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی، جس کے مندرجات سے تین اعلیٰ غیر ملکی حکام کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے اماراتی صدر کے ایک فلسطینی مشیر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو غزہ سے متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تھے اور اس گفتگو کے بارے میں براہ راست علم رکھتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی صدر محمد بن زاید نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار اسرائیل کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خونریزی ہوسکتی ہے، خطے کا امن متاثر ہوسکتا ہے اور اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان ہونے والے ’معاہدات ابراہیمی‘ کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 45 منٹ کی اس کال پر نیتن یاہو کے حد سے زیادہ پرسکون ردعمل نے اماراتی صدر کو حیران کردیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں جواب دیا کہ اسرائیل غزہ کی صورتحال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے، حماس کی کوئی بھی ممکنہ کارروائی مغربی کنارے میں ہوسکتی ہے اور اسرائیل ہر قسم کے منظر نامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ہارٹز کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ محمد بن زاید کو حماس کے اس ممکنہ خطرے کا علم خود یحییٰ سنوار کی جانب سے ہوا تھا، جو 2023 کے وسط میں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے پر خوش نہیں تھے۔

 

PNP

Comments are closed.