by Rao Imran Suleman
Rao Nama

برطانیہ میں بجلی کا بڑا بحران، صارفین پر اربوں پاؤنڈ کا بوجھ متوقع

برطانیہ میں بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن میں تاخیر کے باعث صارفین پر آنے والے برسوں میں اربوں پاؤنڈ کے اضافی اخراجات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

نیشنل آڈٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے ترسیلی گرڈ کی کئی اہم اپ گریڈیشنز مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر گرڈ کی صلاحیت میں بروقت اضافہ نہ کیا گیا تو بجلی کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

برطانوی توانائی ریگولیٹر آفجیم کے اندازے کے مطابق 2025 سے 2031 کے دوران بجلی کے ترسیلی نیٹ ورک کی بہتری کے لیے تقریباً 70 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق جب بجلی پیدا کرنے والے مقامات سے اسے ضرورت والے علاقوں تک پہنچانے کے لیے گرڈ کی گنجائش ناکافی ہو تو نیشنل انرجی سسٹم آپریٹر کو نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ اس دوران بعض بجلی گھروں کو پیداوار بڑھانے کے لیے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، جبکہ بعض گیس پلانٹس یا ونڈ فارمز کو پیداوار کم کرنے یا عارضی طور پر روکنے کے لیے معاوضہ دیا جاتا ہے۔

2025-26 کے دوران گرڈ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو تقریباً 1.9 ارب پاؤنڈ ادا کیے گئے۔ نیشنل آڈٹ آفس کے مطابق اگر گرڈ کی اپ گریڈیشن میں تیزی نہ لائی گئی تو یہ سالانہ اخراجات 2030 تک بڑھ کر 6.6 سے 7.8 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتے ہیں۔

نیشنل انرجی سسٹم آپریٹر کے مطابق 2030 تک گرڈ کو بہتر بنانے کے لیے 88 منصوبے درکار ہیں، تاہم نیشنل آڈٹ آفس کا کہنا ہے کہ ان میں سے 64 منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ان کی مقررہ وقت تک تکمیل مشکل دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ میں منصوبہ بندی، سپلائی چین اور گرڈ سے منسلک ہونے سے متعلق مسائل کو بھی اہم خطرات قرار دیا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت گرڈ کی ضروری توسیع مکمل ہونے سے پہلے نظام میں شامل ہوگئی تو بجلی کی ترسیل اور طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

PNP

Comments are closed.