کراچی (پی این پی) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رینجرز تعیناتی اور اختیارات میں مزید ایک سال کی توسیع کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔قرار داد صوبائی وزیر داخلہ و پارلیمانی امور اور قانون ضیاء الحسن لنجار نے پیش کی ۔
قرار داد کے متن کے مطابق سندھ میں رینجرز تعیناتی 20 جولائی2026 ءسے 19 جولائی 2027 تک ہو گی،رینجرز کی تعیناتی میں توسیع آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت کی گئی ہے۔ٹارگٹ کلنگ اور سٹریٹ کرائم میں کمی رینجرز کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں اور مفرور ملزمان سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، عوامی امن،جان و مال کے تحفظ کے لیے رینجرزکی موجودگی ضروری ہے، رینجرز نے پولیس کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کیا۔
اجلاس میں وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ بورڈ اور اقرا یونیورسٹی کا ترمیمی بل بھی پیش کئے، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔
ایم کیو ایم کے رکن عامر صدیق کی جانب سے تحریک التوا پیش کی گئی، انہوں نے کہا کہ کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے، انتظامیہ کے لوگ درست جواب نہیں دے رہے، کتوں کے کاٹنے کے واقعات سنجیدہ معاملہ ہے اس کا حل نکالیں۔ عامر صدیقی نے وزیر داخلہ کی یقین دہانی پر تحریک واپس لے لی۔
ایم کیوایم رکن فوزیہ حمید نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں میں تیزبیم لائٹ استعمال کرنے کا فیشن بن گیا ہے، تیزلائٹ پڑتی ہے تو سامنے والے کو کچھ دکھائی نہیں دیتا اور حادثات بھی ہوتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تیزلائٹس سمیت مختلف لائٹس اور پولیس کی لائٹس لگا کر لوگ چلتے ہیں،صرف کمپنی سے فٹڈ گاڑیوں کو تو کچھ نہیں کیا جاسکتا، تسلیم کرتا ہوں کہ سندھ میں تیز بیم کے ساتھ گاڑیاں چلتی ہیں، یہ پولیس کی کوتاہی ہے،ہم بیم لائٹس کےخلاف کریک ڈاؤن کریں گے۔
سپیکر نے اجلاس کے دوران سندھ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہوں کو طلب کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ 23ستمبر کو کے الیکٹرک،حیسکو،سیپکو سی ای اوز خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں۔
PNP
Comments are closed.