نائجیریا ،حراستی مرکز میں 37 ہلاکتیں، زندہ بچ جانے والوں کے چونکا دینے والے دعوے
نائجیریا کی ریاست نائجر میں حراست کے دوران 37 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر ملک بھر میں تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد زندہ بچ جانے والے افراد نے حراستی مرکز کے حالات سے متعلق سنگین دعوے کیے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد ان نوجوانوں کی تھی جو مبینہ طور پر غیر قانونی سونے کی کانوں میں کام کرتے تھے۔ نائجیریا کی سکیورٹی ایجنسی نے غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا تھا۔
زندہ بچ جانے والے 22 سالہ ادمو عیسیٰ کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 17 افراد کو ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا، بعد میں مزید درجنوں زیر حراست افراد کو بھی اسی جگہ منتقل کردیا گیا۔ ان کے مطابق قیدیوں نے جگہ کی کمی کی شکایت کی، تاہم کچھ دیر بعد اہلکاروں نے دروازے کے نیچے سے ایک نامعلوم مادہ مبینہ طور پر اندر اسپرے کیا۔
عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں قیدیوں نے سمجھا کہ شاید بدبو ختم کرنے کے لیے کوئی خوشبودار مادہ استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن تقریباً ایک گھنٹے بعد متعدد افراد کی حالت خراب ہونے لگی۔ ان کے مطابق کچھ افراد بے ہوش ہوکر گر گئے۔
ایک اور زندہ بچ جانے والے 29 سالہ داؤدا شیہو نے بھی دعویٰ کیا کہ اسپرے کے بعد قیدیوں کو گلے میں خارش اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوا، جس کے بعد کئی افراد ہلاک ہوگئے۔
زندہ بچ جانے والوں کے مطابق قیدی مدد کے لیے پکارتے اور دروازہ کھٹکھٹاتے رہے، لیکن انہیں باہر نہیں نکالا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ مبینہ طور پر اسپرے کیا جانے والا مادہ کیا تھا۔
واقعے کے ابتدائی مرحلے میں نائجیریا کی سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے ممکنہ بیماری کو اموات کی وجہ قرار دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں حکام نے کہا کہ ہلاکتوں کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک سکیورٹی ادارے کے بعض سینئر اہلکاروں کو معطل بھی کردیا ہے۔
واقعے کے بعد احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہوگئے اور مظاہرین و سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے نائجر ریاست میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا گیا۔
حکام نے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں میڈیا کو دکھائیں، تاہم موت کی حتمی وجہ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ متعدد لاشوں کو اسلامی طریقے کے مطابق دفن کردیا گیا، جبکہ چھ لاشیں جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں موجود رہیں۔
PNP
Comments are closed.