کراچی(پی این پی)وزیرِاعلیٰ سندھ سے اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک کی نمائندہ انیتا ہرش نے ملاقات کی جس میں سندھ حکومت اور عالمی ادارۂ خوراک کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق ملاقات میں بتایا گیا کہ سندھ کے 5 اضلاع کیماڑی، ملیر، سجاول، ٹھٹہ اور ٹنڈو محمد خان کے 1336 سرکاری سکولوں کے ڈھائی لاکھ طلبہ ’سندھ پائیدار سکول کھانا پروگرام‘ سے مستفید ہوں گے۔
اجلاس میں بینظیر نشو و نما پروگرام کے لیے عالمی ادارۂ خوراک کی جاری معاونت، موسمیاتی خطرات سے متاثرہ کمزور آبادی کے تحفظ اور پیشگی اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
CM @MuradAliShahPPP met WFP Representative Anita Harsch to review cooperation on school meals, nutrition, climate resilience, anticipatory action and social protection. Both sides agreed to further strengthen collaboration for resilient food & social protection systems in Sindh. https://t.co/Hst2qh4Dym
— Sindh Chief Minister House (@SindhCMHouse) September 22, 2026
اس موقع پر وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا کہ ’سندھ پائیدار سکول کھانا پروگرام‘ بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، سندھ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک کی نمائندہ انیتا ہرش نے کہا کہ سکول کھانا پروگرام غذائیت، تعلیم، صحت اور مقامی اقتصادی ترقی کا امتزاج ہے، ادارے کی حکمتِ عملی حکومتی اداروں کو مضبوط بنانے اور انسانی ضروریات کم کرنے والے حکومتی حل کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔
ملاقات میں موجود صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ غذائی قلت بچوں اور ماؤں کو درپیش سنگین چیلنجز میں شامل ہے، محکمۂ صحت غذائیت اور ماں، بچے کی صحت کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔
PNP
Comments are closed.