اقوام متحدہ اجلاس؛ٹرمپ اور روبیو کا ایرانی حکام سے بات چیت پراظہار آمادگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ امریکا ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم فی الحال کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق معاملے سے واقف ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی نمائندوں سے ممکنہ ملاقات کو حالات سازگار ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔ ممکنہ ملاقات نیویارک میں موجود صدر ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ بھی ہوسکتی ہے۔
مارکو روبیو نے این بی سی نیوز کے پروگرام ’’Today‘‘ میں کہا کہ امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے، خاص طور پر اگر اس سے کوئی مثبت نتیجہ نکلے اور مطلوبہ ہدف حاصل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
امریکی حکام کے مطابق انتظامیہ میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ ممکنہ ملاقات سے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے یا کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کوئی عملی پیش رفت ہوسکتی ہے۔ امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ نیویارک میں موجود ایرانی حکام کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مذاکرات کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے یا نہیں۔
دوسری جانب روئٹرز نے ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کر دے اور ایرانی بندرگاہوں سے ناکہ بندی ہٹا لے تو ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا کو باضابطہ طور پر سفارتی طریقے سے معاملہ حل کرنے کی خواہش کا اعلان کرنا ہوگا اور پھر اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ٹائم لائن پر اتفاق کرنا ہوگا۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد، جو اس وقت نیویارک میں موجود ہے، امریکا کے ساتھ سفارتی راستہ بحال کرنے کے مکمل اختیارات رکھتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جو منگل کی صبح تہران سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے، اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے نیویارک میں واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی تفصیلات پر واسطوں کے ذریعے بات چیت کے امکان کی طرف اشارہ کیا۔
ان کے مطابق تہران نے اس حوالے سے اپنی تجاویز 16 ستمبر کو وسطی افراد کے ذریعے امریکی فریق کو سونپ دی تھیں۔ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس امریکا کے لیے سفارت کاری کی طرف واپسی کا ایک موقع ہے اور اگر واشنگٹن ٹھوس اقدامات اٹھاتا ہے تو تہران سفارت کاری کی بحالی کا خیرمقدم کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور صدر مسعود پزشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا پہنچنے والے محدود وفد میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، تاہم اہم سوال یہ ہے کہ ایران کی جانب سے کون بات کرے گا اور آیا ایران اس ملاقات پر آمادہ ہے یا نہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سیشن کا آغاز ہوچکا ہے اور صدر ٹرمپ کا اہم خطاب بھی اسی اجلاس کے دوران ہے۔ اجلاس 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔
PNP
Comments are closed.