وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا اشارہ
اسلام آباد (پی این پی): خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں وفاقی سطح پر ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق بحث ایک بار پھر سامنے آگئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوں اور حالات اس اقدام کا تقاضا کریں تو آئین میں موجود طریقہ کار کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار واضح ہے اور کسی بھی اقدام کا فیصلہ اسی آئینی فریم ورک کے مطابق ہوگا۔ ان کے مطابق اگر خیبرپختونخوا میں ایسے حالات پیدا ہوں جن میں آئین ایمرجنسی کا تقاضا کرے تو اسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی گورنر راج کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معمول کا اقدام نہیں بلکہ غیر معمولی حالات میں اختیار کیا جانے والا راستہ ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے میں حالات مزید خراب ہوئے تو آئینی طریقہ کار کے تحت اس معاملے پر غور ہوسکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو امن و امان اور انتظامی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کے بجائے صوبے میں امن کی بحالی کو ترجیح دینے کی بات بھی کی۔
گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے میں مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کے احتجاج اور دیگر مسائل بھی موجود ہیں، جنہیں حکومت کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری طور پر جاری بیان میں انہوں نے 28 ستمبر کو ینگ ڈاکٹرز اور ٹرینی میڈیکل افسران کے احتجاج کا بھی ذکر کیا۔
گورنر راج کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدام کے لیے وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت کو آئینی تقاضوں اور حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان کے مطابق گورنر راج صرف مخصوص آئینی حالات میں ہی نافذ کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کے بعد 25 ستمبر کو گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
یوں حالیہ بیانات میں وفاقی وزیر قانون نے آئینی شرائط پوری ہونے کی صورت میں ایمرجنسی کے امکان کا ذکر کیا ہے، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا نے بھی غیر معمولی حالات میں گورنر راج کے آئینی راستے کی بات کی ہے؛ تاہم کسی حتمی نفاذ یا فیصلے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
PNP
Comments are closed.