امریکا کا اسرائیل کو 40 ہزار بھاری بم دینے کا منصوبہ
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے 2.8 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی 40 ہزار بم شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ پیکیج میں 20 ہزار ایم کے 84 اور 20 ہزار بی ایل یو 117 بم شامل ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 20 ہزار آئی 2000 پینیٹریٹر وار ہیڈز بھی پیکیج کا حصہ ہیں
امریکی ذرائع کے مطابق اس معاملے سے متعلق کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا جاچکا ہے۔ پیکیج کی بڑی رقم امریکی غیر ملکی فوجی معاونت کے ذریعے فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے زیرِ التوا اسلحہ فروخت پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ بم ماضی میں بھی اسرائیل کو فراہم کیے جاتے رہے ہیں اور ان کے استعمال پر شہری ہلاکتوں کے خدشات کے باعث سابق امریکی انتظامیہ نے 2024 میں ایک کھیپ کی ترسیل روک دی تھی۔
امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ پیکیج کی رقم بالآخر امریکی مالی وسائل سے فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے امریکی کانگریس کے بعض ارکان کے اسرائیل سے متعلق پالیسی مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
PNP
Comments are closed.