دنیا بھر میں آئندہ چند ماہ میں خوراک کی قلت کا خدشہ- بھارتی وزیر خارجہ کا بڑا بیان
نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کو آنے والے مہینوں میں سنگین مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ اناج کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں، کھاد کی قلت اور موسمی تبدیلیاں عالمی غذائی تحفظ کے لیے بڑے خطرات بن رہی ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق بعض بڑے اناج برآمد کرنے والے ممالک کو خاص طور پر بحیرۂ اسود کے راستے اپنی برآمدات جاری رکھنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں خوراک کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کھاد کی فراہمی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم پیداواری ممالک میں جاری تنازعات اور دیگر مسائل کے باعث کھاد کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے اثرات زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
EAM Jaishankar warns of “major food crisis in coming months” amid shortages of grains, fertilizers, super El Niño
Vdo source: Asia Society pic.twitter.com/Ti9rdvqV2h
— Sidhant Sibal (@sidhant) September 29, 2026
جے شنکر نے موسمی تبدیلی کے عنصر، خصوصاً ال نینو، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ممکنہ شدید اثرات عالمی زرعی پیداوار اور خوراک کی فراہمی کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توانائی، خوراک، کھاد اور مالیاتی شعبوں میں بیک وقت پیدا ہونے والا دباؤ دنیا کے مختلف ممالک کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ تنازعات کے دوران سرمایہ بھی غیر یقینی سمجھی جانے والی معیشتوں سے نسبتاً محفوظ منڈیوں کی طرف منتقل ہوتا ہے، جس سے متاثرہ ممالک پر اضافی مالی دباؤ پڑتا ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ نے بڑے ممالک کے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں کے عالمی اثرات کو بھی مدنظر رکھیں اور ایسی پالیسیوں پر غور کریں جن سے عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور معاشی استحکام کو کم سے کم نقصان پہنچے۔
PNP
Comments are closed.