غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ کے بعد، انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کی ایک بڑی تعداد متعدد کراسنگز کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئی ہیں۔ 22 جنوری کی شام تک 3200 سے زائد امدادی ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہو چکے تھے۔ فلسطینی واٹر اتھارٹی نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کے نقصان کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق، غزہ میں انسانی ہمدردی کی ترجیحات میں خوراک کی فراہمی، صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی، اسپتالوں کی بحالی، پانی کے نیٹ ورکس کی بحالی، پناہ گاہوں کی مرمت کے لئے سامان کی منتقلی اور خاندانوں کا دوبارہ اتحاد شامل ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے 22 تاریخ کو اعلان کیا کہ حالیہ دنوں میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اسرائیلی گیوتی بریگیڈ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کے علاقے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ غزہ کی پٹی کے جنوبی حصے رفح کے علاقے میں میونسپلٹی مقامی آبادی کے تعاون سے ملبے کو صاف کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو صاف کرنے میں تقریباً 21 سال درکار ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ جنگ نے غزہ کی پٹی میں گزشتہ 69 سالوں کی ترقی کے تمام ثمرات کو مٹا دیا ہے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔