by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کرلیں

سائنسدانوں نے وقت کی پیمائش کے شعبے میں ایک اہم کامیابی حاصل کرلی ہے، جہاں آسٹریا اور چین کی دو تحقیقی ٹیموں نے آزادانہ طور پر فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں وقت کی انتہائی درست پیمائش اور کائنات کے بنیادی قوانین کو سمجھنے کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی دو الگ الگ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور چین کی سنگھوا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تقریباً ایک ہی وقت میں یہ کامیابی حاصل کی۔ ابتدائی کارکردگی کے لحاظ سے دونوں گھڑیاں جدید ترین ایٹمی گھڑیوں کے برابر قرار دی گئی ہیں۔

نیوکلیئر گھڑی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وقت کی پیمائش کے لیے ایٹم کے بیرونی الیکٹرانز کے بجائے اس کے مرکزے میں توانائی کی تبدیلیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا نام نیوکلیئر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا تعلق جوہری توانائی یا نیوکلیئر فیوژن سے ہے۔

دونوں تحقیقی ٹیموں نے تھوریم 229 کے ایک خاص ایٹمی روپ کو کیلشیم فلورائیڈ کے ٹھوس قلمی مادے میں شامل کرکے تجربات کیے۔ یہ مادہ نیوکلیئر گھڑی کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

ویانا کی تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر تھورسٹن شم کے مطابق نیوکلیئر گھڑی تیار کرنے کا تصور کئی دہائیوں سے زیرِ تحقیق تھا، جبکہ ان کی ٹیم نے 2008 میں اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کیا تھا۔

چینی ٹیم کے سربراہ شی چیان ڈنگ نے کہا کہ دو الگ تحقیقی ٹیموں کا مختلف طریقوں سے تقریباً ایک جیسے نتائج حاصل کرنا اس ٹیکنالوجی کے سائنسی امکانات کو تقویت دیتا ہے۔

روایتی ایٹمی گھڑیاں سیزیم اور اسٹرونشیم جیسے عناصر میں الیکٹرانز کی توانائی کی تبدیلیوں کو استعمال کرکے وقت کا تعین کرتی ہیں۔ اس کے برعکس نیوکلیئر گھڑی میں ایٹمی مرکزے کی توانائی کی حالتوں میں تبدیلیوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔

چونکہ ایٹمی مرکزہ بیرونی الیکٹرانز کے مقابلے میں بیرونی برقی مقناطیسی اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہوتا ہے، اس لیے سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ مستحکم، چھوٹی اور انتہائی درست گھڑیاں تیار کی جاسکیں گی۔

انتہائی درست وقت کی پیمائش پہلے ہی عالمی نظاموں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سیٹلائٹ نیوی گیشن، جی پی ایس، انٹرنیٹ، مواصلاتی نیٹ ورکس اور مالیاتی نظام اسی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔ نیوکلیئر گھڑیوں میں مزید بہتری ان شعبوں میں بھی نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق کے فوائد صرف وقت کی پیمائش تک محدود نہیں رہیں گے۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی عمومی نظریۂ اضافیت کے مزید دقیق تجربات، بنیادی طبیعیات کے مطالعے اور کائنات میں تاریک مادے کے ممکنہ آثار تلاش کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عملی طور پر مزید بہتر بنانے اور اس کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر جانچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے، تاہم ابتدائی کامیابی کو وقت کی پیمائش اور بنیادی سائنسی تحقیق کے میدان میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.