by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہاز آئے تو ڈبو دیں گے، ایرانی بحریہ کی دھمکی

تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے اعلیٰ کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عظمایی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آئے تو انہیں نشانہ بنا کر ڈبو دیا جائے گا۔ ایرانی کمانڈر نے اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول کے معاملے میں امریکا کو بھی چیلنج کیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی عظمایی نے منگل کو ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بحری افواج امریکی جنگی جہازوں کی آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب آمد کی منتظر ہیں تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔

ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کی فورسز ممکنہ مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی جنگی جہاز اس آبی گزرگاہ کے قریب آنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ وہاں انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

علی عظمایی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تقریباً 13 ارب ڈالر مالیت کا ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے تقریباً 700 کلومیٹر دور چلا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

ایرانی کمانڈر نے امریکا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال اور اس پر کنٹرول کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو اسے خود وہاں آکر صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس علاقے میں فوجی کشیدگی بڑھنے سے عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ایرانی بحریہ کی یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں اور کنٹرول کے معاملے پر تناؤ برقرار ہے۔ تاہم ایرانی کمانڈر نے کسی مخصوص امریکی جہاز کو نشانہ بنانے کے وقت یا منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

PNP

Comments are closed.