by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو پولیس نے حراست میں لے لیا

دیپکے ابھی اپنے گھر سے نکلے تھے اور اپنی گاڑی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ پولیس افسران نے انھیں گھیر لیا اور زبردستی پولیس کی ایک گاڑی میں بٹھا لیا

October 16, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

نئی دہلی : کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی، ابھیجیت دیپکے کو دارالحکومت دہلی کے مرکزی علاقے میں مارچ سے قبل حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ان کی حراست ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب پولیس نے جمعے کے مارچ کے انعقاد کے خلاف انتباہ جاری کیا تھا اور اجتماع کو روکنے کے لیے شہر بھر میں ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

دیپکے کی نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

گروپ نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ دہلی کے مصروف ترین تجارتی علاقوں میں سے ایک، کناٹ پلیس کے ایک پارک میں جمع ہوں اور انڈیا کا پرچم لہرائیں۔

شرکا کی تعداد سی جے پی کے پہلے مظاہروں کے مقابلے میں کم تھی، اگرچہ ہجوم میں بتدریج اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ بعض نوجوان مظاہرین کو حراست میں لے کر ایک بس میں دھکیلا جا رہا تھا جہاں پہلے ہی کچھ خواتین زیرِ حراست موجود تھیں۔ بس میں تقریباً 50 خواتین پولیس اہلکار موجود تھیں، جن کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔

دیپکے ابھی اپنے گھر سے نکلے تھے اور اپنی گاڑی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ پولیس افسران نے انھیں گھیر لیا اور زبردستی پولیس کی ایک گاڑی میں بٹھا لیا۔ سی جے پی کے بعض حامیوں نے گاڑی کو روانہ ہونے سے روکنے کی کوشش بھی کی۔

اپوزیشن سیاست دان انیش گاونڈے، جن کے گھر دیپکے قیام پذیر تھے، نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے انھیں کیوں حراست میں لیا ہے۔ پولیس نے ابھی تک عوامی طور پر حراست کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔

گاونڈے نے کہا: ’قومی پرچم ہاتھ میں لے کر چلنے والے ایک اکیلے شخص کو حراست میں لینا کسی حد تک مضحکہ خیز بات ہے۔‘

ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع تھا جب دیپکے کو حراست میں لیا گیا۔ گذشتہ سنیچر پولیس نے ان کا طیارہ دہلی پہنچنے کے فوراً بعد گھیر لیا تھا اور انھیں اُس منصوبہ بند احتجاج تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

PNP

Comments are closed.