امریکا سے مذاکرات شرائط پوری ہونے پر ہی ہو سکتے ہیں ، عباس عراقچی
بغداد:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے اب تک امریکہ کی تازہ ترین تجویز کا جواب نہیں دیا تاہم شرائط پوری ہونے پر مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزارتی اجلاس کے دوسرے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انھوں نے کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور سات روزہ منصوبے کی صورت میں امریکہ کے سامنے پیش کی جا چکی ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہم نے اپنی شرائط پیش کیں، امریکہ نے اپنی رائے دی اور ہم ابھی اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہماری نظر میں سات روزہ منصوبہ اب بھی میز پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ دیانتداری کا مظاہرہ کرے، تو آگے بڑھنے کا راستہ واضح ہے۔ اگر وہ ان شرائط پر عمل کرتے ہیں تو آبنائے ہرمز چھٹے دن کھول دی جائے گی اور ساتویں دن مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔‘
عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ’ہم کسی بھی صورت دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران کی دفاعی تیاری ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے راستے پر بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران کے سات روزہ منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں۔
تاہم اس کے بعد واشنگٹن کی جانب سے تہران کو ایک نئی تجویز موصول ہوئی، جس کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
PNP
Comments are closed.