by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سائبر فراڈ کا دھندا بےنقاب، مالک سمیت 11 ملزمان گرفتار

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے سائبر فراڈ کا دھندا بےنقاب کردیا اور ​کال سینٹر کے مالک سمیت 11 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

این سی سی آئی اے کراچی زون نے شاہراہ فیصل پر واقع ظفر سینٹر کی پہلی منزل پر غیر قانونی طور پر چلنے والے ایک کال سینٹر پر خفیہ کارروائی کی۔

حکام کے مطابق یہ کال سینٹر منظم بین الاقوامی سائبر فراڈ، مالیاتی گھپلوں اور غیر ملکی شہریوں (خصوصاً امریکا کے شہریوں) کی حساس بینکنگ معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کرنے میں ملوث تھا۔

​این سی سی آئی اے کراچی کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے اس مقام پر چھاپہ مارا جہاں افراد کا ایک منظم نیٹ ورک غیر قانونی کال سینٹر چلا رہا تھا۔

​کارروائی کے دوران کال سینٹر کے مالک یاسر گلگتی سمیت 11 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں ایجنٹس، سپر ایجنٹس، کلوزرز اور فلور منیجر شامل ہیں۔

چھاپے کے دوران غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل آلات اور دیگر الیکٹرانک سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

مقدمہ میں نامزد 2 دیگر ملزمان تاحال مفرور ہیں، ابتدائی تفتیش اور ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات کے تکنیکی تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان فون کالز کے ذریعے امریکہ کے مختلف بینکوں، مالیاتی اداروں اور قرضوں کے تصفیے کے اداروں کے نمائندے بن کر شہریوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔

​ملزمان غیر ملکی شہریوں کو ذاتی اور مالیاتی معلومات ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کے لیے جدید دھوکہ دہی کی تکنیکیں استعمال کرتے تھے، جن میں کال اسپوفنگ، جعل سازی اور پہلے سے تیار کردہ اسکرپٹس کا استعمال شامل تھا۔

​ملزمان دھوکا دہی کے ذریعے حاصل کی جانے والی معلومات جن میں​ سوشل سیکیورٹی نمبرز، ​کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی معلومات، ​بینکنگ کی تفصیلات اور ذاتی شناخت کی معلومات،​ موبائل فون نمبرز اور تاریخ پیدائش شامل ہے، حاصل کرتے تھے۔

​تفتیش سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ غیر قانونی طور پر حاصل کردہ یہ معلومات نیٹ ورک کے دیگر اراکین کے ساتھ شیئر کی جاتی تھیں تاکہ غیر مجاز مالیاتی لین دین اور فراڈ پر مبنی چارجز کی سہولت کاری کی جا سکے۔

اس کارروائی سے ایک ایسے منظم نظام کا پردہ فاش ہوا، جس میں کال سینٹر کے ایجنٹس، مالک اور مالیاتی فراڈ پر مبنی ٹرانزیکشنز کرنے والے افراد سب شامل تھے۔

​این سی سی آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں ایف آئی آر نمبر 106/2026 درج کر لی گئی ہے۔ یہ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرمز ایکٹ  2016 (بشمول ترامیم 2025) کی دفعات 3، 4، 6، 13، 14، 16 اور 26 کے تحت، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34 اور 109 کے ساتھ ملا کر 13 نامزد ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

فراڈ کے اس نیٹ ورک کی مکمل وسعت کا پتہ لگانے، مالیاتی لین دین کا سراغ لگانے، مزید سہولت کاروں کی شناخت کرنے اور دیگر قومی و بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورکس کے ساتھ ممکنہ روابط قائم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔



PNP

Comments are closed.