by Rao Imran Suleman
Rao Nama

وسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے بعد یتیم خانے میں زیر کفالت 106 بچوں کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا

ملتان میں 15 سال کے وسیم عباس کے کار سے کچلے جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانہ کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مطابق یتیم خانہ میں زیر کفالت بچوں کو ورثا کے حوالہ کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا یتیم خانہ میں زیر کفالت 106بچوں کو ان کے ورثا کے حوالے کیا گیا جبکہ بچ جانے والے 16بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا گیا ہے۔

بچوں کی منتقلی کے بعد یتیم خانہ کی دونوں عمارتیں خالی کروالی گئی ہیں ۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مطابق یتیم خانہ کی رجسٹریشن کی درخواست پہلے ہی مسترد کردی گئی تھی جبکہ یتیم خانہ چلانے والی این جی او کی رجسٹریشن بھی منسوخ کردی گئی ہے اور یتیم خانہ کی گورننگ باڈی کے گرفتار سیکرٹری جنرل کو آج مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ملتان میں یتیم بچے کو کار سے کچلنے والا ملزم توقیر گزشتہ روز مقابلے میں ہلاک ہوگیا تھا، ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی کا دعویٰ ہے کہ ملزم ریمانڈ پر تھا اور فرار ہوگیا تھا۔

سی سی ڈی کے مطابق ملزم موٹرسائیکل پر جارہا تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی، ناردرن بائی پاس بہاولپور پر پولیس نے دو موٹرسائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کی، پولیس کے روکنے پر ملزمان نے بھاگتے ہوئے فائرنگ کی۔

ملزم توقیر اپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تاہم ملزم کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔

 ملزم نے گزشتہ روز کار کی ٹکر سے 15 سالہ لڑکے کو کچل دیا تھا، یتیم بچہ وسیم عباس ملزم کے غیر انسانی رویے سے تنگ آکر کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہلاک ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، عدالت میں پیشی کے دوران وکلاء نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔



PNP

Comments are closed.