سربیا میں انتخابات سے قبل طلبہ کی قیادت میں بڑا مظاہرہ
بلغراد: سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں پارلیمانی انتخابات سے قبل طلبہ کی قیادت میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں منتظمین اور آزاد ہجوم کی نگرانی کرنے والے ادارے کے اندازے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین صدر الیگزینڈر ووچک کی جماعت کے طویل اقتدار کے خاتمے اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکمران سربیئن پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) کو چیلنج کر رہی ہے۔ یہ جماعت 2012 سے اقتدار میں ہے، جبکہ الیگزینڈر ووچک ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سربیا کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
ریلی میں شریک افراد نے طلبہ تحریک کے حق میں نعرے لگائے اور پرچم اٹھا کر مارچ کیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد بلغراد کے مرکزی سلاویجا اسکوائر میں جمع ہوئی، جہاں شرکا نے بدعنوانی کے خاتمے، شفاف تحقیقات اور سیاسی تبدیلی کے مطالبات دہرائے۔
BREAKING: Thousands of students are protesting tonight in Serbia’s capital, Belgrade. pic.twitter.com/cyfQTDHSrR
— World Source News (@Worldsource24) October 22, 2026
طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک کا آغاز 2024 میں نووی سڈ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے ایک حصے کے گرنے کے بعد ہوا تھا۔ اس واقعے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سانحے کے بعد سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور ناقص نگرانی کے الزامات سامنے آئے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔
تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات اور حکومتی احتساب چاہتے ہیں۔ طلبہ کی حمایت یافتہ انتخابی فہرست میں شامل امیدواروں کی بڑی تعداد کا تعلق تعلیمی شعبے سے ہے یا وہ روایتی سیاسی حلقوں سے باہر کے افراد ہیں۔ تحریک کا بنیادی نکتہ بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور حکومتی نظام میں اصلاحات ہے۔
دوسری جانب الیگزینڈر ووچک نے طلبہ تحریک پر غیر ملکی حمایت سے ملک میں حکومت گرانے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے خطاب میں حکمران جماعت کو انتخابی کامیابی دلانے کے لیے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔
انتخابات سے قبل سربیا کی سول سوسائٹی کے بعض گروپس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ادھر بلغراد کے استغاثہ نے انتخابی دن تشدد اور ہنگامہ آرائی کی مبینہ منصوبہ بندی کے شبہے میں گرفتار کیے گئے چھ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔
سربیا میں طلبہ کی احتجاجی تحریک تقریباً دو سال سے جاری ہے اور حالیہ ریلی کو انتخابات سے پہلے اس کی اہم سرگرمیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تاہم ملک میں قابل اعتماد آزاد انتخابی سروے محدود ہونے کے باعث انتخابی نتائج کے بارے میں واضح اندازہ لگانا مشکل ہے۔
PNP
Comments are closed.