مانچسٹر: پاکستانی چھڑوں کے گھروں پر حملے ، 49 واقعات رپورٹِ، 3 افراد گرفتار
مانچسٹر: گریٹر مانچسٹر کے علاقے میں پاکستانی چھڑوں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنانے اور توڑ پھوڑ کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کو اب تک گھروں اور فلیٹوں کو نقصان پہنچانے کی 49 مختلف شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے بیشتر میں کھڑکیوں اور دروازوں کو توڑا گیا اور ان پر رنگ (پینٹ) سے “No HMO” (مشترکہ رہائش نا منظور) کے الفاظ تحریر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کچھ مقامات پر کی گئی وال چاکنگ (گرافٹی) میں “Stop the Boats” (کشتیاں روکو) جیسے نعرے بھی لکھے گئے، جبکہ ایک گھر کے دروازے کے باہر خنزیر (سور) کا کٹا ہوا سر پھینکنے کا سنگین واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملوں کے اس سلسلے کا آغاز 5 اکتوبر کو سالفورڈ سے ہوا تھا، جہاں سے اب تک 40 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ تاہم، یہ سلسلہ اب دیگر علاقوں تک پھیل رہا ہے۔ 20 اور 21 اکتوبر کی درمیانی شب ٹیم سائیڈ کے علاقوں سٹیلی برج ، ڈکن فیلڈ اور ڈینٹن میں چار مزید مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔
گریٹر مانچسٹر پولیس نے ان واقعات کی تحقیقات کے سلسلے میں 46، 39 اور 33 سال کی عمر کے تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو فی الحال ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے اس خدشے اور اشارے کا اظہار بھی کیا ہے کہ بالغ مجرمان اس مجرمانہ توڑ پھوڑ کو انجام دینے کے لیے کمسن بچوں اور نوجوانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے چیف سپرنٹنڈنٹ مارکس نوڈن نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پراپرٹیز کو نقصان پہنچانے کا یہ سلسلہ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔ ہم اس معاملے کو شدید سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مجرمان، بشمول بچوں کو استعمال کرنے والے عناصر، کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہے ہیں۔ اس ہفتے کی گئی گرفتاریوں سے تمام ملوث عناصر کو واضح پیغام جانا چاہیے کہ انہیں ان کے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
جمعرات 22 اکتوبر کو ٹیم سائیڈ کونسل کے تمام سیاسی دھڑوں کے رہنماؤں نے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں اس غنڈہ گردی اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
PNP
Comments are closed.