by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پسند کی شادی کا ارمان : بھارتی ریاست اتر پردیش میں مسلمان لڑکی موبائل ٹاور پر چڑھ گئی

لکھنؤ: بھارتی ریاست اتر پردیش (یو پی) کے ضلع میں پسند کی جگہ شادی نہ ہونے سے دلبرداشتہ مسلمان دوشیزہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے 100 فٹ سے زائد بلند موبائل ٹاور پر چڑھ کر احتجاج کا انوکھا اور خطرناک راستہ اختیار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ لڑکی کا موقف تھا کہ وہ اپنی پسند کے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے، تاہم اہل خانہ اس رشتے پر رضامند نہیں تھے۔ گھر والوں کے انکار اور دباؤ سے تنگ آ کر لڑکی نے یہ غیر معمولی قدم اٹھایا اور صبح کے وقت اچانک قریب ہی واقع موبائل ٹاور کی چوٹی پر جا پہنچی۔

موبائل ٹاور پر لڑکی کو دیکھ کر علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

پولیس افسران اور مقامی معززین نے لاؤڈ اسپیکر اور موبائل فون کے ذریعے لڑکی سے رابطہ کیا اور اسے نیچے اترنے کے لیے منانے کی کوششیں شروع کیں۔ ٹاور پر موجود لڑکی مسلسل یہی دہائی دیتی رہی کہ جب تک اس کے گھر والے اس کی پسند کی شادی کی ضمانت نہیں دیتے، وہ نیچے نہیں اترے گی۔

تقریباً دو سے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اس ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد پولیس اور دیہاتیوں نے دونوں خاندانوں کو راضی کیا اور لڑکے کی رضامندی کے بعد فون اور ویڈیو کال کے ذریعے قاضی کی موجودگی میں ‘نکاح’ کا اہتمام کیا گیا۔ رشتے کی ضمانت اور نکاح کے بعد لڑکی کو بحفاظت نیچے اتار لیا گیا، جس پر انتظامیہ اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔

مقامی پولیس کے مطابق لڑکی بالکل محفوظ ہے اور واقعے سے متعلق قانونی ضوابط کے تحت مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

PNP

Comments are closed.