جنیوا(نیوزڈیسک)سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے مابین گزشتہ سال پندرہ اپریل سے دارالحکومت خرطوم میں مسلح جھڑپیں شروع ہوئیں اور بعد میں دوسرے علاقوں تک پھیل گئیں اور آج تک جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان کے معاملے پر ایک عوامی اجلاس منعقد کیا۔ چین کے نمائندے نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سوڈان کے مسئلے کے سیاسی حل کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کریں اور علاقائی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کریں۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب دائی بِنگ نے کہا کہ سوڈان میں تنازع کے مسلسل طول کی وجہ سے بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں اور سنگین انسانی بحران پیدا ہوا ہے جو قابل مذمت ہے۔ بین الاقوامی برادری کو سوڈان کے مسئلے کے سیاسی حل کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ جلد از جلد امن حاصل کیا جاسکے۔ چینی فریق نے کہا کہ سیاسی تصفیے کو فروغ دینے کے لئے کوششیں تیز کرنا ضروری ہے۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ جنگ بندی کا حصول اور جتنی جلدی ممکن ہو لڑائی کو ختم کرنا ہے۔ چین تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ایک ہی سمت میں کام کریں، کشیدہ صورتحال کو جلد از جلد کم کریں اور امن مذاکرات کے آغاز کے لئے حالات پیدا کریں۔ چین سوڈانی حکومت کی جانب سے کچھ سرحدی گزرگاہوں کو اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں کے لیے کھولنے کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔