متحدہ عرب امارات(نیوزڈیسک)یوکرین سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ خاتون دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے چند گھنٹے بعد انتقال کرگئیں، خاتون کے نمازِ جنازہ میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق داریا کوٹسارینکو نامی یوکرائنی خاتون بطورِ سیاح متحدہ عرب امارات آئی تھیں، اُنہوں نے یہاں سیاحت کے ساتھ ساتھ اپنے لیے نوکری بھی تلاش کرنا شروع کردی تھی۔
متحدہ عرب امارات میں داریا کوٹسارینکو کو نہ صرف بہترین کیریئر کے مواقع ملے بلکہ وہ دینِ اسلام کی خوبصورتی اور سادگی سے بھی بےحد متاثر ہوئیں اور اُنہوں نے 25 مارچ کو یہاں اسلام قبول کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام قبول کرنے سے قبل داریا کوٹسارینکو کا تعلق مسیحی مذہب سے تھا جبکہ جس وقت اُن کا انتقال ہوا تو وہ روزے کی حالت میں تھیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے چند گھنٹے کے بعد ہی خاتون کو دل کا دورہ پڑا جس کی وجہ سے اُن کا انتقال ہوا۔
’جنازہ یو اے ای‘ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ خاتون کا دبئی میں کوئی رشتہ دار موجود نہیں تھا، وہ یہاں اکیلی ہی رہ رہی تھیں۔
پوسٹ میں مزید بتایا گیا کہ خاتون کی نمازِ جنازہ القصیٰ قبرستان کی مسجد میں ادا کی گئی جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
داریا کوٹسارینکو کے نمازِ جنازہ کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔