اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر نے عالمی ادارے کا مکمل رکن بننے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی درخواست مزید غوروخوض کی غرض سے عالمی ادارے کی رکنیت کمیٹی کو بھیج دی ہے، واضح رہے کہ رواں ماہ اپریل کے لیے مالٹا سلامتی کونسل کا صدر ہے۔
مالٹا کی اقوام متحدہ کی سفیر وینیسا فریزیئر کے مطابق 15 رکنی کمیٹی اس ماہ فلسطین کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرے گی، انہوں نے کمیٹی کو فلسطینی اتھارٹی کی درخواست پر غور کے لیے پیر کو اجلاس کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن بنانے پر بات چیت کا آغاز
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے فلسطین کی درخواست سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے نئے ارکان کو جمع کروائی ۔ انتظامات کے مطابق کونسل کے نئے ارکان کے داخلے سے متعلق کمیٹی کی پہلی داخلی مشاورت اسی دن ہو تی ہے۔
فلسطین اس وقت اقوام متحدہ میں مبصر ہے اور فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن تسلیم کرنے کے لیے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی رضامندی درکار ہے۔
یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے 2011 میں اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے کے لیے درخواست دی تھی لیکن امریکا نے اس وقت اپنی ویٹو پاور استعمال کرنے کی دھمکی کے ساتھ کہا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پہلے ایک معاہدہ ہونا چاہیے جس پر فلسطین نے اپنی درخواست معطل کردی تھی ۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔