بیجنگ (نیوز ڈیسک) چائنا انٹرنیشنل کنزیومر گڈز ایکسپو دوبارہ شروع ہونے والی ہے۔ یہ ایکسپو، جسے “گلوبل کنزیومر کوالٹی ڈسپلے اینڈ ٹریڈنگ پلیٹ فارم” کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا ایک خاص طور پر منفرد نمائشی علاقہ ہے جس کا نام “گلوبل بائنگ تھرو ڈوئل سرکولیشن” ہے۔
کسی بھی ملک کی اقتصادی گردش اندرونی گردش اور بین الاقوامی گردش پر مشتمل ہوتی ہے۔ آج چین کے ملکی اور بین الاقوامی ماحول میں تبدیلیاں آ چکی ہیں اور پوری دنیا کو غیر معمولی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔
چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے “ایک نئے ترقیاتی نمونے کی تعمیر” کا اسٹریٹجک انتخاب کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد “اندرونی گردش کو بنیادی بنیاد کے طور پر لینا اور اندرونی اور بین الاقوامی گردشوں کو ایک دوسرے کے ذریعے تقویت دینا” ہے۔ اس سال کی کنزیومر ایکسپو نے 59 ممالک اور خطوں کے 3,000 برانڈز کو ڈیجیٹل، گرین اور ہیلتھ جیسی نئی صارفین کی مصنوعات میں شرکت کے لیے راغب کیا ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ کنزیومر ایکسپو چین کی ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کو جوڑتی ہے اور “دوہری گردش” کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ عالمی کمپنیوں کو چینی مارکیٹ کا اشتراک کرنے اور چینی مصنوعات کو عالمی سطح پر لے جانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ تاحال چین نے 140 ممالک کے ساتھ تجارتی شراکت داری قائم کی ہے، اور سامان اور خدمات میں اس کی کل تجارت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔”دوہری گردش کے ذریعے عالمی خریداری” کی اتنی صلاحیت اور مانگ کی حامل مارکیٹ کی موجودگی میں عالمی ادارے، کاروباری حضرات اور صارفین کیسے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتے ہیں؟
Trending
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
- سلطان آف جوہر کپ ہاکی کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
- فرانس کی سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ ، ملین ڈالر کا نقصان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔