بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں کیوبا کے خلاف امریکہ کی اقتصادی، تجارتی اور مالی پابندیاں ختم کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 187 ووٹوں کے ساتھ متعلقہ قرارداد کو ایک بار پھر منظور کیا، جو قومی خودمختاری کے دفاع اور غیر ملکی مداخلت اور ناکہ بندی کی مخالفت کے لئے کیوبا کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی پختہ حمایت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے امریکہ کی یکطرفہ غنڈہ گردی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کی متفقہ طور پر مذمت اور سخت مخالفت کی گئی ہے۔
امریکہ کی جانب سے کیوبا کے خلاف یکطرفہ جبری اقدامات نے کیوبا کے عوام کو انتہائی مصائب سے دوچار کیا ہے۔ کیوبا کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے کیوبا کو 60 سال سے زائد عرصے سے 160 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے جس میں سے صرف مارچ 2023 سے فروری 2024 تک5 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان بھی شامل ہے جس میں خوراک، ادویات، ایندھن اور توانائی سمیت لوگوں کے ذریعہ معاش کے تقریبا تمام شعبے شامل ہیں۔ 1992 سے لے کر اب تک چین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیوبا کی امریکی پابندیوں کے خلاف قرارداد کی حمایت میں مسلسل 32 مرتبہ ووٹ دیا ہے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔