اسلام آباد:حکومت پاکستان کی جانب سے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے تحت معاشی، تکنیکی اور سماجی منصوبوں کے فروغ کے لئے بیجنگ میں ہونے والے اہم سیمینار کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک تعارفی اجلاس وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی۔ جس میں مختلف وزارتوں اور صوبائی محکموں کے چین جانے والے نامزد افسران نے شرکت کی۔
اس موقع پروفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں وفد کے مشن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا اور شرکاء کو ہدایت دی کہ وہ اس سیمینار میں بھرپور تیاری اور نتیجہ خیز حکمت عملی کے ساتھ شرکت کریں۔ انہوں نے اس اقدام کو پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی اور باہمی تعاون کی شاندار مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد میں تین روزہ ورکشاپ کی تجویز دی گئی تھی لیکن چین نے پاکستان کے 27 ماہرین کو بیجنگ مدعو کیا تاکہ وہ چین کی ترقیاتی حکمت عملیوں کا براہ راست مشاہدہ کریں اور سی پیک فیز II کے لئے ایک جامع منصوبہ تشکیل دیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے چین کی حیرت انگیز ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1980 میں پاکستان کی فی کس آمدنی 300 ڈالر تھی جبکہ چین کی 200 ڈالر تھی۔ آج چین نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکال کر جدید دنیا کی تاریخ میں ایک بے مثال ترقیاتی ماڈل قائم کیا ہے۔وفاقی وزیر نے شرکاء کو اہم موضوعاتی شعبوں کی نشاندہی کی جن میں معاشی ترقی، ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کا فروغ، غربت کا خاتمہ، تعلیم اور صحت کے منصوبے، توانائی کے شعبے میں تبدیلی اور برآمدات میں اضافے کے لئے عالمی سپلائی چینز کے ساتھ رابطے شامل ہیں۔
انہوں نے وفد کے ارکان کو بھرپور تیاری کے ساتھ سیمینار میں شرکت کرنے، اپنے متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے مشورے لینے اور چین کی ترقیاتی حکمت عملیوں کا مطالعہ کرنے کی ہدایت کی۔ پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان-چین دوستی کے فروغ کے لئے وفد کے ارکان کو سفیر کے طور پر پیشہ ورانہ رویے اور وقت کی پابندی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ وزارت خارجہ نے بھی وفد کو ضروری سفارتی آداب اور اصولوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ وفد “چیمپئنز آف چینج” کے طور پر واپس آئے گا اور چین کی ترقی کی کہانی سے متاثر ہو کر پاکستان کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ سیمینار پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی اور چین کے قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی ) کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے، جو سی پیک کے دوسرے مرحلے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تعاون پاکستان کے5 ایز فریم ورک، معیشت، برآمدات، ماحول، توانائی اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہے۔گزشتہ سال پاکستان اور چین نے سی پیک کے تحت دس سال کی کامیاب ترقی کا جشن منایا۔
اس دوران، چینی نائب وزیراعظم عزت مآب ہی لیفینگ نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے تجویز کردہ پانچ نئے موضوعاتی راہداریوں کا اعلان کیا، جن میں ترقیاتی راہداری، معیار زندگی کو بہتر بنانے کی راہداری، جدت کی راہداری، سبز راہداری، اور علاقائی رابطے کی راہداری شامل ہیں۔ یہ راہداری معاشی ترقی، جدت طرازی اور پائیدار ترقی کے اہداف کو فروغ دینے کے لئے تشکیل دی گئی ہیں۔
Trending
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔