نویں چین-جنوبی ایشیا ایکسپو میں 2500 سے زائد کمپنیوں کی شرکت
پاکستان کے اسٹالز کی تعداد 140 ہے، رپورٹ
بیجنگ ()
نویں چین-جنوبی ایشیا ایکسپو چین کے صوبہ یون نان کے شہر کھون منگ میں شروع ہوئی۔ رواں سال کی اس چھ روزہ جنوبی ایشیا ایکسپو میں 73 ممالک، خطے اور بین الاقوامی تنظیمیں شریک ہیں اور 2500 سے زائد کمپنیاں نمائش میں حصہ لے رہی ہیں، جس میں جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے تمام ممالک شامل ہیں۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
رواں سال بھی جنوبی ایشیا ایکسپو “مشترکہ ترقی کے لیے اتحاد اور تعاون” کی تھیم اپنائے ہوئے ہے ، جس میں سری لنکا تھیم ملک اور تھائی لینڈ خصوصی پارٹنر ملک کے طور پر شامل ہیں۔ 16 پویلینز میں سے پیشہ ورانہ پویلینز کا تناسب تقریباً 70 فیصد ہے، جن میں مینوفیکچرنگ پویلین، سبز توانائی پویلین، کافی انڈسٹری پویلین، اور چینی جڑی بوٹیوں کا صنعتی پویلین شامل ہیں۔ یہ پویلینز چین اور جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کی صلاحیت رکھنے والی جدید مینوفیکچرنگ، صاف توانائی، اور جدید زراعت سمیت شعبوں کو مرکزی طور پر پیش کرتے ہیں۔موجودہ جنوبی ایشیا ایکسپو نے جنوبی ایشیائی ممالک کی مصنوعات کے لیے ایک وسیع تر نمائشی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے، جس میں 2 جنوبی ایشیا پویلینز اور تقریباً 800 اسٹالز قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے پاکستان اور بھارت کے اسٹالز کی تعداد سب سے زیادہ ہے، ہر ایک کے 140 اسٹالز ہیں۔
Trending
- پمز میں چیف ٹیکنیشن کی بھرتی روک دی گئی، نوٹس جاری
- سہ فریقی ٹی20 سیریز، نمیبیا نے جنوبی افریقہ کو 18 رنز سے ہرادیا
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔