بیجنگ (چائنہ ڈیسک) چین کی اسٹیٹ کونسل کے دفتر اطلاعات نے 8 نومبر کو “کاربن پیک اور کاربن نیوٹرلٹی کے لیے چین کے اقدامات” کے حوا لے سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا ۔
وائٹ پیپر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کاربن پیک اور کاربن نیوٹرلٹی کے اہداف کے اعلان کے پانچ سالوں میں، چین نے” سبز پہاڑ اور شفاف پانی انمول اثاثے ہیں” کے تصور کو مضبوطی سے اپنایا اور اس پر عمل کیا، اور مؤثر اقدامات اور سخت محنت سے اس ضمن میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
وائٹ پیپر میں نشاندہی کی گئی ہے کہ توانائی کی سبز اور کم کاربن منتقلی کاربن پیک اور کاربن نیوٹرلٹی کے حصول کی کلید ہے۔ چین نے توانائی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر قابل تجدید توانائی کے متبادل اقدامات کو زور دیا، توانائی اور بجلی کے نئے نظام کی تعمیر کو فروغ دیا جو ” کاربن پیک اور کاربن نیوٹرلٹی” کے اہداف کے لیے مضبوط تعاون فراہم کرتی ہے ۔
وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بچت کاربن کے اخراج کو کم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ چین نے توانائی کی بچت ، توانائی کی کارکردگی بڑھانے اور سرکلر اکانومی کے ذریعے کاربن کے کم اخراج،نیز کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا ہے ۔
وائٹ پیپر میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ چین موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ ایک زیادہ صاف اور خوبصورت دنیا کی تعمیر کی جا سکے۔
Trending
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔