شنگھائی (شِنہوا) شنگھائی گلوبل ہاربر کی پانچویں منزل پر واقع سی آئی آئی ای مارکیٹ کے اندر ہمالیائی نمک کا ایک روشن زرد چراغ 18 مربع میٹر پر مشتمل پاکستانی قومی پویلین کو دھیمی روشنی سے منور کر رہا ہے۔ جبکہ پویلین کے اندر پاکستانی تاجر محمد کاشف عزیز روانی سے چینی زبان میں قدرتی قیمتی پتھروں کے گلدان صارفین کو متعارف کرا رہے ہیں اور وضاحت کر رہے ہیں کہ ان کی رگیں فطرت کا تحفہ ہیں۔ہر نمونہ چین اور پاکستان کی دوستی کی طرح منفرد ہے۔کاشف کا چین-پاکستان کاروباری سفر 2016 میں اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اپنی چینی اہلیہ سے شادی کے بعد شنگھائی میں سکونت اختیار کی۔ ابتدا میں آئی سی کارڈز کی برآمد سے آغاز کیا مگر جلد ہی انہوں نے دونوں منڈیوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو محسوس کیا۔لاہور اور شنگھائی کے درمیان بار بار کے سفر میں ان کا سوٹ کیس پاکستانی دستکاری کے سامان سے بھرا رہتا جسے غیر متوقع طور پر چینی دوستوں اور رشتہ داروں کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔2سال قبل کاشف نے اپنی توجہ درآمدات کی جانب موڑ دی اور پاکستانی قیمتی پتھر، ہمالیائی نمک کے چراغ، پیتل کی دستکاریاں اور باسمتی چاول چین لانے لگے۔ چائنہ بین الاقوامی درآمدی نمائش (سی آئی آئی ای) کے اثرات کے ساتھ ایک نیا موڑ آیا۔2025 کے اوائل میں انہوں نے شنگھائی گلوبل ہاربر میں واقع سی آئی آئی ای مارکیٹ میں مقام بنایا جو نمائش کی سال بھر جاری رہنے والی توسیع ہے جس میں33 ممالک کی مصنوعات پیش کی جاتی ہیں۔ چھ دن کی نمائش سے 365 دن کی سرگرمی تک اس پلیٹ فارم نے تجارت اور ثقافتی تبادلے دونوں کے لئے طویل مدتی مواقع فراہم کئے ہیں۔مقامی ضروریات کے مطابق ڈھلنا کاشف کی کامیابی کی کلید رہا ہے۔ چینی گونگ فو چائے کی ثقافت کے لئے خصوصی طور پر تیار کئے گئے پتھر کے ٹی سیٹس پاکستانی ہنرمندی کو چینی جمالیات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں جو بتدریج صارفین کی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔ہاتھ سے تراشے گئے پیتل کا آرائشی سامان اور ہمالیائی نمک کے چراغ بھی مقبول ہو چکے ہیں جبکہ نمک کے چراغوں نے شنگھائی کے یوگا سٹوڈیوز کے ساتھ اشتراک کی راہ ہموار کی ہے جہاں مراقبہ کے تجربات کے ذریعے قدرتی صحت کے پاکستانی تصورات کو چینی فلاح و بہبود کے نظریات سے جوڑا جا رہا ہے۔ایک چھوٹے خاندانی کاروبار سے سرکاری طور پر منظور شدہ قومی پویلین تک شنگھائی میں کاشف کا 10 سالہ سفر چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا بھر کی مصنوعات کے درمیان ان کے قیمتی پتھر، نمک کے چراغ اور پیتل کی دستکاریاں ثقافتی سفیر بن چکی ہیں جو تجارت سے آگے بڑھ کر دوستی کا پیغام پہنچا رہی ہیں۔کاشف کہتے ہیں کہ سی آئی آئی ای ایک پل ہے، مارکیٹ ایک بندرگاہ ہے اور ثقافت بنیاد ہے۔ آئندہ وہ شنگھائی کی جامعات کے ساتھ پاکستانی دستکاری کی ورکشاپس پر تعاون کرنے اور ایسے ڈیزائن تلاش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو غیر مادی چینی ثقافتی ورثے پر مشتمل ہوں تاکہ تجارت اور ثقافت کے ذریعے باہمی فہم کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
Trending
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری