بیجنگ : چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے دعوت پر ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔بدھ کے روز عباس عراقچی نے خطے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا اور ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور قومی خودمختاری و آزادی کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عارضی سیز فائر کے بجائے مکمل جنگ بندی کا خواہاں ہے ۔ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے لیے کھلی ہے اور جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن ہے، تاہم جنگ میں شامل ممالک اس دائرے میں شامل نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے ایسے اقدامات کریں جو کشیدگی کم کرنے میں مددگار ہوں۔عباس عراقچی نے چین سے امن کے قیام کے لیے مثبت کردار جاری رکھنے کی توقع بھی ظاہر کی۔وانگ ای نے اس موقع پر چین کا اصولی مؤقف دہرایا اور کہا کہ تمام حساس مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، طاقت کا استعمال مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت جنگ کے مقابلے میں بہتر راستہ ہے، جو ایران اور اس کے عوام کے مفاد میں بھی ہے اور عالمی برادری کی مشترکہ خواہشات کے مطابق بھی۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ امن کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد از جلد مذاکرات کا آغاز کریں۔ چین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف اپناتے ہوئے دیگر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مخالفت جاری رکھے گا، امن کے فروغ اور خطے کے استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
Trending
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
- سلطان آف جوہر کپ ہاکی کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
- فرانس کی سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ ، ملین ڈالر کا نقصان