by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران یورینیئم باہر بھیجنے کے بجائے اسکی افزودگی کی سطح کم کرے گا، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران یورینیئم کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اسکی افزودگی کی سطح کم کرے گا اور اب نیوکلیئر فائل، منجمد اثاثوں اور لبنان کے معاملے پر تین ٹیکنیکل ورکنگ گروپس کام کریں گے۔

عرب میڈیا کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے ابتدا میں مطالبہ کیا تھا کہ ایران میں موجود افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو باہر منتقل کیا جائے تاہم اس بات پر سمجھوتہ کرلیا گیا ہے کہ ایران زیر زمین ہی یورینئیم کی افزودگی کی سطح کم کرے گا۔ 

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایشو ورکنگ گروپس میں سے ایک کی میٹنگ میں طے کیا جا سکتا ہے۔ 

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز 60 روز تک بغیر کسی ٹیرف کے گزر سکتے ہیں، انہیں صرف اسٹینڈرڈ نیوی گیشن یا سروس فیس دینا ہو گی، چین بھی اس اقدام کا حامی ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مذاکرات کی ذاتی طور پر رہنمائی کی، سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات ثالثی کے عمل کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ایران نے اس عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیشگوئی کی کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے مگر حتمی معاہدہ قابل حصول ہے، ڈیل میں کوئی منفی نکتہ نہیں۔



PNP

Comments are closed.