کراچی (پی این پی) اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس (اے وی سی سی) نے اغوا برائے تاوان کا ڈراما رچانے والے شہری کو بازباب کر کے حراست میں لے لیا ، خود ساختہ مغوی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں اس نے مقروض ہونے اور اپنے اغوا کا ڈرامہ رچانے کا اقرار کرتے ہوئے سب سے معافی مانگ لی۔
نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق ترجمان اے وی سی سی پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 30 جولائی کو انعام الحسن نامی شہری جو ٹریول ایجنٹ کا کام کرتا ہے، کو نامعلوم اغوا کاروں نے رکشے میں اغوا کر کے اس کی رہائی کے عوض 15 لاکھ روپے تاوان طلب کیا ہے جس پر پیر آباد پولیس نے مغوی کے بھائی اکرم کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے سمیت دیگر کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس کو منتقل کر دیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ایس ایس پی اے وی سی سی آصف رضا بلوچ نے سی پی ایل سی کے ہمراہ اپنے زیر نگرانی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے ٹیکنیکل بنیادوں اور ہیومن انٹیلیجنس پر کام کرتے ہوئے منگھوپیر تھانے کی حدود چونگی ناکہ میں موجود مسجد کے ہجرے مشترکہ کارروائی کر کے مغوی 48 سالہ انعام الحسن کو بازیاب کرلیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے جس موبائل فون سے تاوان طلب کیا گیا تھا وہ بھی برآمد کرلیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بازیابی کے بعد مغوی انعام الحسن نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ ٹریول ایجنٹ کا کام کرتا ہے اور اس نے کافی لوگوں سے حج اور عمرہ پر بھیجنے کے سلسلے میں لاکھوں روپے لیے تھے جو کہ خرچ ہوگئے جس کی وجہ سے وہ پریشان تھا اور اس نے خود ساختہ اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ خود منگھوپیر کے علاقے میں قائم کی مسجد میں روپوش رہا اور اس نے ایک شخص کو کہہ کر اپنی ہاتھ پاؤں باندھی تصویر کھینچوائی اور اپنے گھر والوں کو بھیجی تھیں، خود ساختہ اغوا کا ڈراما 30 جولائی کی شب ساڑھے 10 بجے اورنگی ٹاؤن پونے پانچ نمبر کے قریب پیش آنے کا بتایا گیا۔
خود ساختہ مغوی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 6 سے 7 ماہ سے ٹریول ایجنٹ کا کام کرتے ہیں اور لوگوں کا مقروض ہوگیا تھا جس پر اس نے خود کو اغوا کرنے کا ڈراما رچایا اور بھائی کو فون کر کے بتایا کہ مجھے کسی نے اغوا کرلیا مجھے پیسے چاہیں جس پر میرے بھائی نے پولیس سے رابطہ کر کے میرے اغوا کا مقدمہ درج کرایا میں سب سے معافی چاہتا ہوں۔
PNP
Comments are closed.