امریکا اورچین کا30 ارب ڈالرمالیت کی اشیاپرٹیرف میں کمی پراتفاق
واشنگٹن میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے بعد امریکا اور چین نے ایک دوسرے کی 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا پر زیادہ سازگار محصولات عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیانات کے مطابق اس تجارتی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی جانب سے بعض اشیا پر ٹیرف میں کمی اور رعایتی شرحیں متعارف کرانے کی سفارشات طے پا گئی ہیں۔
دستاویزات اور سرکاری رپورٹس کے مطابق امریکی مصنوعات میں زرعی اجناس، سمندری خوراک، لکڑی، کاسمیٹکس اور طبی آلات شامل ہیں، جبکہ چین سے امریکا آنے والی اشیا میں چھوٹی گھریلو مصنوعات، کھلونے اور آرائشی سامان اس انتظام کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ چین نے 2027 اور 2028 کے دوران ہر سال امریکا سے کم از کم ایک کروڑ میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
ملاقات میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی اور دونوں ممالک نے اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر بات چیت کے لیے ایک خصوصی مکالمے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ اجلاس نومبر میں متوقع ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہنگامی صورتحال اور ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے لیے رابطے کا ایک الگ چینل بھی قائم کیا جائے گا۔ دوطرفہ امور کے حوالے سے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولنے اور روابط کے استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔
PNP
Comments are closed.