بنگلہ دیشی وزیر کا پستول تھام کر منشیات کے مبینہ اڈے پر چھاپہ، ویڈیو وائرل
ڈھاکا: بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی ایک کچی آبادی میں منشیات فروشی کے مبینہ مرکز پر وزیر مملکت اشراق حسین کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کارروائی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے امورِ جنگِ آزادی اشراق حسین نے 17 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہیں گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ان کے ایک ہاتھ میں میگا فون اور دوسرے ہاتھ میں پستول دکھائی دیتا ہے، جبکہ ان کے بعض ساتھیوں کے پاس بھی اسلحہ موجود ہے۔
یہ فوٹیج ڈھاکا کے علاقے گنڈاریا ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایک کچی آبادی میں بنائی گئی۔ ویڈیو میں اشراق حسین چند افراد کا تعاقب کرتے اور انہیں علاقے میں منشیات کے مبینہ کاروبار پر تنبیہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اشراق حسین کو ویڈیو میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپ پورے شہر اور علاقے کو تباہ کر رہے ہیں۔
Stepping out of his vehicle clutching a handheld microphone in one hand and a pistol in the other, #Bangladesh’s State Minister for Liberation War Affairs Ishraque Hossain—neither a police officer nor any anti-drug official—was spotted publicly chasing some alleged drug peddlers.… pic.twitter.com/HAiAEZbBOu
— Pinaki Bhattacharya (@PinakiTweetsBD) October 17, 2026
فوٹیج میں وزیر کے ساتھیوں کی جانب سے روکے گئے بعض افراد خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں۔ اس پر اشراق حسین انہیں کہتے ہیں کہ پولیس کو آنے دیں، اس کے بعد بات ہوگی۔
39 سالہ اشراق حسین بنگلہ دیش کی حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے تعلق رکھتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں اس علاقے سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔
ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد اس کارروائی کے طریقۂ کار پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ تاہم منشیات فروشی کے الزامات اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے والی معلومات سے نہیں ہوتی۔
PNP
Comments are closed.