روس کا ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کا اعلان
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ اور کشیدگی کا ذمہ دار امریکا ہے، جبکہ خطے میں امن کے لیے سفارت کاری اور سیاسی ذرائع اختیار کرنا ہوں گے۔
تہران میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ علاقائی امور پر ایران اور روس کے درمیان مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں خلیجی خطے، مغربی ایشیا، یوکرین اور ایران امریکا مذاکرات سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ تنازعات کا فوجی حل ممکن نہیں، اس لیے سفارت کاری اور سیاسی ذرائع اپنانا ضروری ہیں۔ انہوں نے یمن اور لبنان کی صورتحال بہتر بنانے اور فلسطین میں نسل کشی بند کرنے پر بھی زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کی خطرناک توسیع پسندی کو روکنا ضروری ہے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا نتیجہ ہے۔
اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ عباس عراقچی کے ساتھ تفصیلی اور مثبت مذاکرات ہوئے ہیں۔ روس ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کی دستاویز پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی معاونت فراہم کرنے اور موجودہ بحران کا قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر کام جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ عالمی فورمز پر تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
PNP
Comments are closed.