متعدد اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے حماس کو ایک نئی تجویز پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں زیر حراست بقیہ 136 اسرائیلی شہریوں کی حماس کی طرف سے مرحلہ وار رہائی کے بدلے اسرائیلی فوج دو ماہ کی فائر بندی کرے گی اور ردعمل میں ، اسرائیل بھی اتنی ہی تعداد میں قید فلسطینیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔
علاوہ ازیں ، اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے بڑے شہروں سے انخلاء کریں گی جبکہ فلسطینی شہریوں کو بتدریج شمالی غزہ کی پٹی میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے گی۔ اطلاعات کے مطابق، اس معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں فائر بندی کے دو ماہ بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا دائرہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ حماس نے ابھی تک اسرائیل کی تجویز پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں واقع امل ہسپتال کے اطراف کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی اسرائیل کی مسلسل بمباری اور مواصلات اور انٹرنیٹ خدمات کے مکمل طور پر متاثر ہونے کی وجہ سے خان یونس میں اپنے عملے کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہے، اور عالمی برادری سے فوری طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ وہ امل میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹر ، ہسپتالوں میں کام کرنے والےکارکنان اور ہزاروں بے گھر افراد کی حفاظت کے لیے کردار ادا کرے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔