اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر ایک کھلی بحث کا انعقاد کیا۔چین کی ریاستی کونسل کی بچوں اور خواتین سے متعلق قومی ورکنگ کمیٹی کی وائس چیئرپرسن ہوانگ شیاؤ وی نے خواتین سے متعلق شعبوں میں چین کی کوششوں اور تجربات کو متعارف کروایا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین ہمیشہ خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی ترقی کا بھرپور حامی رہا ہے نیز قانون سازی کو یقینی بنانے اور پالیسی اقدامات کے ذریعے معاشی اور معاشرتی ترقی کے ثمرات کو مکمل طور پر بانٹنے کے لیے خواتین کی حمایت کی ہے۔ چین ٹھوس اقدامات کے ذریعے ترقی پذیر ممالک بشمول تنازعات والے علاقوں میں خواتین اور نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور استعداد کار بڑھانے میں بھی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
اسی دن خواتین کے مرتبے سے متعلق اقوام متحدہ کے پینل کے 68 ویں اجلاس میں خواتین کی اقتصادی شمولیت پر ایک سائیڈ ایونٹ کا انعقاد کیا گیا۔ چینی نمائندے نے اجلاس میں کہا کہ چین کی اقتصادی شمولیت کی حکمت عملی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے پالیسی گارنٹی فراہم کرتی ہے، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہے اور صنفی مساوات اور جامع ترقی کو فروغ دیتی ہے۔ ترقی کی راہ پر کسی بھی ملک یا عورت کو پیچھے نہ چھوڑنے کی کوشش گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کا وژن اور اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کردہ ہدف کے مطابق ہے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔