بیجنگ:سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکرٹری، عوامی جمہوریہ چین کے صدر اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے آن ہوئی میں ایک حالیہ دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ آن ہوئی کو نئے ترقیاتی تصور کو مکمل طور پر نافذ کرنا چاہئے، متعدد قومی ترقیاتی حکمت عملیوں کے غیر معمولی فوائد سے پورا استفادہ کرتے ہوئے سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی ، ابھرتی ہوئی صنعتوں کی ترقی، اصلاحات اور کھلے پن ، سماجی اور سبز معاشی ترقی کے فروغ کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
سترہ سے اٹھارہ اکتوبر تک چینی صدر شی جن پھنگ نے صوبہ آن ہوئی کے شہر آن چھنگ اور حے فی کا دورہ کیا ،جہاں انہوں نے یکے بعد دیگرے ٹونگ چینگ شہر کے لیوچی لین اورحے فی بن ہو سائنس سٹی کا دورہ کیا۔صدر شی نے چین کی شاندار روایتی ثقافت کی وراثت کو آگے بڑھانے، چینی تہذیب کے روحانی پہلو کو مضبوط کرنے، سائنسی اور تکنیکی نظاموں اور میکانزم میں جدت کو فروغ دینے، اور سائنسی اور تکنیکی کامیابیوں پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے حوالے سے مقامی صورتحال کے بارے میں جانا ۔18 تاریخ کی صبح شی جن پھنگ نے آن ہوئی صوبائی پارٹی کمیٹی اور صوبائی حکومت کی ورک رپورٹ سنی۔ شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ آن ہوئی کو چاہیئے کہ وہ سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی اور صنعتی تبدیلی اور اپ گریڈیشن میں تیزی لائے، گہری اصلاحات اور اعلی سطحی کھلے پن کو فروغ دے، شہری اور دیہی مربوط ترقی کے نئے ڈھانچے کو تشکیل دے اور ثقافت اور سیاحت کی مربوط ترقی کو بھی فروغ دے ۔انہوں نے کہا کہ آن ہوئی میں ثقافتی سیاحت کو ایک صنعتی ستون بنایا جانا چاہیئے۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔
Next Post