غزہ:20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ غزہ کی پٹی کے میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فلسطین اسرائیل تنازع کے موجودہ دور میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کے تقریباً 17500بچےشہید ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے پہلے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں 95 فیصد اسکول جنگ میں جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ مشرق قریب میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی نے 19 تاریخ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ تعلیم غزہ میں بچوں کا حق ہے اور تعلیم تک رسائی میں ناکامی غزہ کی پٹی میں لوگوں کی ایک پوری نسل کو ان کے مستقبل سے محروم کر رہی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان ایلڈر نے 19 تاریخ کو کہا کہ لبنانی بچوں کی حالت بھی غزہ کے بچوں جیسی ہے جہاں گزشتہ دو ماہ کے دوران 200 سے زائد بچے ہلاک اور لاکھوں بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔
ادھر عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے 19 نومبر کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ گزشتہ 10 دنوں میں ڈبلیو ایچ او نے شمالی غزہ کے کمال اڈوان اسپتال میں ہنگامی طبی ٹیمیں بھیجنے کے لیے اسرائیل کو کل چار دفعہ درخواستیں کی ہیں، جنہیں اسرائیل کی جانب سے مسترد کردیا گیا ہے۔ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس کا کہنا تھا کہ اس سے اسپتال کے معمول کے آپریشن میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
Trending
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔