بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی کال پر لاہور میں احتجاج کے دوران پولیس نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر سمیت پارٹی کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق اراکین صوبائی اسمبلی نے شہر میں ریلی نکالی، پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر کو گرفتار کر لیا، اس کے علاوہ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی کی بھی گرفتاری کی اطلاع ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی فرخ جاوید مون نے الزام لگایا کہ پولیس نے ہماری گاڑیوں پر ڈنڈے برسائے، شیشے توڑے، اراکین صوبائی اسمبلی کو زد وکوب کیا، کپڑے پھاڑ دئیے۔
لاہور میں 6 سے زیادہ ایم پی ایز کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے، زیر حراست رہنماؤں میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، ایم پی ایز فرخ جاوید مون، کرنل (ر) شعیب، ندیم صادق ڈوگر، خواجہ صلاح الدین، امین اللہ خان اور اقبال خٹک بھی شامل ہیں۔
پارٹی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لاہور سے ہمارے 300کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، گزشتہ روز پی ٹی آئی کے کارکن چھاپوں کے خوف سے پنجاب اسمبلی سے نہیں نکل رہے تھے۔
دوسری جانب پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اپی ٹی آئی کے لوگوں نے پولیس پر حملہ کیا، ایک پولیس اہلکار کا سر پھٹ گیا ہے۔
صدر انصاف لیگل فورم (آئی ایل ایف) لاہور ملک شجاعت جندران نے کہا کہ گرفتار رہنماوں اور کارکنوں کی ضمانتوں لیے لیگل ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ۔
انہوں نے کہا کہ تین لیگل ٹیمیں گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کیلئے شہر کی تمام کچہریوں میں موجود ہیں، ماڈل ٹاون کچہری ، ضلعی کچہری اور کینٹ کچہری میں لیگل ٹیمیں موجود ہیں۔
Trending
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
- سلطان آف جوہر کپ ہاکی کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
- فرانس کی سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ ، ملین ڈالر کا نقصان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔