سینئر صحافی و یوٹیوبرعمران ریاض خان بازیاب ہو گئے اور اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس نے اپنے ٹویٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پیج پر عمران ریاض خان کی بازیابی اور گھر منتقلی بارے پوسٹ آویزاں کردی۔
صحافی/اینکر عمران ریاض خان صاحب بازیاب ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے گھر پہنچ چکے ہیں
واضح رہے عمران ریاض خان کو 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
عمران ریاض خان سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے مسقط جارہے تھے کہ ایف آئی اے حکام نے گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کردیاتھا۔ گرفتاری کے بعد عمران ریاض خان کو آخری بار تھانہ کینٹ اور پھر سیالکوٹ جیل لے جایا گیا تھا۔
عمران ریاض خان کے والد نے لاہور ہائی کورٹ درخواست دی کہ ان کے بیٹے کو اغوا کیا گیا ھے، 16 مئی کو والد ریاض خان کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں عمران ریاض خان کے اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کی تعزیرات کی دفعہ 365 کے تحت نامعلوم افراد اور پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کی گئی۔20 ستمبر کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر علی بھٹی نے عمران ریاض خان کے والد کی درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو 26 ستمبر تک آخری مہلت دی تھی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ 5 ماہ گزر گئے اور عدالت کا پیمانہ لبریز ھوچکا ھے جب کہ آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبائی انٹیلیجنس چیف لاہور نہیں ہیں، دوبارہ ورکنگ گروپ کا اجلاس جامعہ کے روز ہوگا۔ آئی جی پنجاب نے 15 روز میں خوشخبری سنانے کی نوید دی تھی۔
Trending
- کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا
- راولپنڈی، 12 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
- پاکستان، سری لنکا کے درمیان تیسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا
- سیف علی خان کی انسٹاگرام پر باضابطہ انٹری، پہلی پوسٹ میں کیا شیئر کیا؟
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔