اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ق )نے مسلم امہ پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائے، او آئی سی کو اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان غلام مصطفیٰ ملک نے جماعت اسلامی کے زیراہتمام منعقدہ قوم فلسطین کانفرنس میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
غلام مصطفیٰ ملک نے کہا کہ مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین سمجھتے ہیں کہ آزادی،امن ،استحکام اور ترقی فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے،اور اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم ممالک قبلہ اول کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں اور مسجد اقصی کو صیہونی پنجوں سے آزاد کرانے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ مسلم لیگ ق فلسطینی عوام کا جذبہ حب الوطنی اور قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے ، اسلامی ممالک کی حکومتیں صہیونی ریاست کیلےمتحد مغرب کےخلاف اپنی صفیں مضبوط کریں۔اسرائیل کی جانب سے بجلی، پانی اور ایندھن بھی بند کردیا گیا ہے جس کے بعد سے غزہ میں انسانی بحران سر اٹھا رہا ہے۔
مصطفیٰ ملک کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید اور سینکڑوںزخمی ہوگئے جبکہ شہدا میں بڑی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیل رہائشی عمارتوں، مساجد، دکانوں، فیکٹریوں اور ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، اسرائیل کے ان وحشیانہ اقدامات پر مغربی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کی خاموشی قابل افسوس ہے تاریخ فلسطینیوں کی حمایت میں تاخیر اور چشم پوشی کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گی۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔