by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کپاس کی پیداوار میں غیر متوقع اضافہ، 31 اگست تک 16 لاکھ 96 ہزار گانٹھوں کی پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچ گئی

کراچی (پی این پی) کپاس کے لیے بہتر موسمی حالات کے باعث ملک میں غیر متوقع طور پر کپاس کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی کپاس کے معیار اور مقدار میں بہتری سے روئی کی درآمدات میں بھی کمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، تاہم بعض کاٹن جنرز کی جانب سے روئی میں مبینہ کاٹن ویسٹ کی مکسنگ نے اسٹیک ہولڈرز کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 31 اگست تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 27 فیصد اضافے سے مجموعی طور پر 16 لاکھ 96 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے۔ مذکورہ عرصے میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 5 لاکھ 57 ہزار جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 11 لاکھ 39 ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت بالترتیب 20 فیصد اور 31 فیصد زائد ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیر تبصرہ مدت میں ٹیکسٹائل ملوں نے جننگ فیکٹریوں سے 9 لاکھ 75 ہزار گانٹھوں کی خریداری کی، جو گزشتہ سال کی نسبت 34 فیصد زائد ہے، جبکہ برآمد کنندگان نے 70 ہزار 600 گانٹھوں کی خریداری کی۔ پنجاب میں فی الوقت 145 جبکہ سندھ میں 169 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں۔

 پی سی جی اے کے اعدادوشمار کے مطابق 31 اگست تک پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 5 لاکھ 57 ہزار گانٹھوں کی ترسیل ہوئی، جبکہ پنجاب کراپ رپورٹنگ سروسز کی رپورٹ کے مطابق 27 اگست تک پنجاب میں 7 لاکھ 65 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پیدا ہوئی ہے۔

 احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں طویل دورانیے کے بعد رواں سال سمندر سے پہاڑوں کی جانب دکھن ہوا چلنے، چنائی کے دوران بارشیں نہ ہونے اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت کم رہنے سے کپاس کی فصل پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں بہتری کے ساتھ ٹریش اور نمی کی مقدار کم ہوئی اور روئی کے معیار میں بہتری آئی۔ توقع ہے کہ اس سال پاکستانی روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی ہوسکے گی۔ پاکستان میں کپاس کے معیاری بیج کی عدم دستیابی سے متعلق پروپیگنڈہ بھی ختم ہونے میں مدد مل سکے گی۔ 

پی سی جی اے کی رپورٹ میں سب سے تشویشناک بات سب سے بڑے کاٹن زون رحیم یار خان میں کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں 31 اگست تک ضلع بھر کی جننگ فیکٹریوں میں صرف 13 ہزار گانٹھوں کی آمد ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس سندھ کے ضلع سانگھڑ میں ریکارڈ کی گئی ہے، جو 7 لاکھ 58 ہزار گانٹھوں کے مساوی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کے بعض علاقوں کے کچھ کاٹن جنرز کی جانب سے روئی میں کاٹن ویسٹ کی مکسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، کیونکہ اس عمل سے مقامی کاٹن مارکیٹس میں معیاری روئی کی محدود دستیابی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جبکہ بیرونی منڈیوں میں پاکستان کا امیج بھی متاثر ہوسکتا ہے۔اس مکروہ عمل کے تدارک کے لیے پی سی جی اے کے ساتھ متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے بھی مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔



PNP

Comments are closed.