بھارتی اپوزیشن کاووٹنگ فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری پرسپریم کورٹ تک مارچ کااعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک میں شدت آگئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ ووٹنگ کی دھوکہ دہی اور انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری کے خلاف سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ احتجاجی مظارے دارالحکومت میں جاری مظاہروں کی ایک سیریز کا حصہ ہیں، جنہیں روکنے کے لیے دہلی میں ہزاروں سیکیورٹی فورسز اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے اہم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ اہم میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی سے 2000 جبکہ ممبئی سے 400 مظاہرین اس احتجاج میں شرکت کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کا مؤقف ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے تحت حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں کاکروچ جنتا پارٹی پریشر گروپ کی طرف سے احتجاج کرنے کی کوشش کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ دریں اثنا، اپوزیشن کے قانون ساز اس معاملے پر چیف جسٹس سوریہ کانت کو ایک میمورنڈم پیش کرنا چاہتے تھے، تاہم چیف جسٹس نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے کچھ مخصوص وجوہات کی بنا پر ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ تک ان کی احتجاجی تحریک اور مظاروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
PNP
Comments are closed.