by Rao Imran Suleman
Rao Nama

حکمران جماعت کی دو اہم خواتین سوشل میڈیا پر آمنے سامنے آ گئیں

لاہور( پی این پی) پنجاب حکومت کی دو اہم عہدیدار خواتین سوشل میڈیا پر آمنے سامنے آ گئیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حنا پرویز بٹ کے بعض بیانات نہ صرف ان کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں بلکہ پنجاب حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ حنا پرویز بٹ کی سنجیدہ ٹوئٹس کے حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتیں،حنا پرویز بٹ بعض اوقات ناسمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا سبب بن جاتی ہیں۔حنا پرویز بٹ نے ملتان میں وسیم عباس کی ہلاکت کے واقعے میں نامزد ملزم کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مریم نواز کی حکومت میں فوری انصاف ملتا ہے، ان کے اس بیان پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما و چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے اپنی حالیہ ٹویٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ مریم نواز شریف کی حکومت میں انصاف فوری ملتا ہے،یہ ان کی ذاتی رائے تھی جو ایک عام شہری کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس ٹویٹ میں نہ تو وزیر اعلیٰ پنجاب پر الزام لگایا گیا نہ پنجاب حکومت پر کوئی تنقید کی گئی اور نہ ہی کسی عدالت کے بارے میں کوئی بات کہی گئی، اس لیے اس ٹویٹ پر پروپیگنڈا اور تنقید کرنا بے جا تھا۔حنا پرویز بٹ نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے اس بیان سے اختلاف کیا کہ ان کی ٹویٹ سے خود عظمیٰ بخاری کو کوئی شرمندگی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کسی بات یا عمل سے وزیر اعلیٰ پنجاب یا حکومت پنجاب کو کبھی کوئی شرمندگی نہیں ہوئی، اگر عظمیٰ بخاری خود کوئی شرمندگی محسوس کر رہی ہیں تو یہ ان کی ذاتی چوائس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عظمیٰ بخاری حکومت کی ترجمان ہیںاور انہوں نے حکومت کی پالیسی کو واضح کیا جو اچھی بات ہے، تاہم ان پر کیے گئے ریمارکس غیر ضروری تھے۔انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ جس کے دل میں ذرا سی بھی انسانیت ہوگی وہ سوچے کہ ملتان کے وسیم کی خبر سن کر دل پر کیا گزری ہوگی۔

PNP

Comments are closed.