مارچ 1999 میں لی گئی ایک تصویر میں چینی صدر شی جن پھنگ کی خاندانی روایت کی کہانی درج ہے –
ایک مرتبہ شی جن پھنگ کی والدہ چی شین نے سرکاری عہدیداروں کی طرز عمل اور اخلاق کے بارے میں قدیم زمانے کے ایک دانشور کی لکھی ہوئی کہاوت کو چینی خطاطی کی شکل میں نقل کیا: “میرے ماتحت مجھ سے ڈرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ میں سخت ہوں بلکہ اس لیے کہ میں ایماندار ہوں۔ لوگ مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ میں باصلاحیت ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں انصاف پسند ہوں۔ اگر آپ انصاف پسند ہیں تو لوگ دھوکے میں آنے کی ہمت نہیں کریں گے اور اگر آپ ایماندار ہیں تو آپ کے ماتحتوں کو حقارت کی جرات نہیں ہوگی۔ صرف انصاف پسند ہونے سے ہی ہم صحیح اور غلط میں فرق کرسکتے ہیں، اور صرف ایماندار ہونے سے ہی ہم وقار قائم کرسکتے ہیں۔”یہ کہاوت منگ شاہی دور کے ایک دانشور کاؤ ڈوان کی ہے جو سرکاری اہلکاروں کو غیر جانبدار، بے لوث، ایماندار اور افسروں کے طور پر خود کفیل ہونے کی ہدایت ہے ۔
جون 1953 میں شی جن پھنگ ایک ایسے انقلابی گھرانے میں پیدا ہوئے جو خاندانی تعلیم اور خاندانی طرز عمل کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ والدین کے لیے سب سے زیادہ اہم بات ان کے بچوں کی تعلیم اور نشوونما ہے، ‘اگر بچے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو تو یہ ضرور والدین کی ذمہ داری اور غلطی ہے ۔۔
شی جن پھنگ کے سرکاری رہنما کاعہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی والدہ نے خاندان کا ایک خصوصی تقریب منعقد کی اور دیگر بچوں سے کہا کہ وہ ان شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں نہ کریں جہاں شی جن پھنگ کام کرتے تھے۔
شی جن پھنگ نے ہمیشہ اپنے والدین کی تعلیمات کو ذہن میں رکھا ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ عوام کی خدمت کرنا اور ایماندار ہونا کمیونسٹس کے اصل خصائل ہیں جس کوہمیں برقرار رکھنا چاہئے۔
اپنے والدین کی طرح شی جن پھنگ نے بھی اپنے خاندان کو بہت سخت تعلیم دی۔ ایک سرکردہ کارکن بننے کے بعد، جب بھی وہ کام پر جاتے، وہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو متنبہ کرتے تھے کہ “آپ اس جگہ پر کسی بھی تجارتی سرگرمیوں میں مشغول نہیں ہو سکتے جہاں میں کام کرتا ہوں”۔
ان کی والدہ کی جانب سے نقل کی گئی مذکورہ “سرکاری کہاوت ” کا جملہ شی جن پھنگ کو یاد ہے۔ رواں سال کے آغاز میں سی پی سی کی 20 ویں سینٹرل کمیشن فار ڈسپلن انسپکشن کے تیسرے کل رکنی اجلاس میں شی جن پھنگ نے تجویز پیش کی تھی کہ سی پی سی میں نئے نظر ثانی شدہ ڈسپلنری ریگولیشنز کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل درآمد کی تحریک شروع کی جائے تاکہ پوری پارٹی میں نظم و ضبط کی تعلیم دی جا سکے۔ اس وقت سی پی سی پارٹی ڈسپلن کا مطالعہ اور تعلیم زوروشور سے جاری ہےتاکہ پارٹی ارکان اور کارکنوں کو نظم و ضبط، قواعد کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور سیاسی ، نظریاتی وعملی شعور بلند کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
Trending
- جنوبی کوریا کا تمام 5 کروڑ 20 لاکھ شہریوں کو مفت اے آئی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
- سانحہ پمز: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کرکے فوجداری کارروائی کی ہدایت کردی
- زندگی رہی تو شاید بلاول کو بھی وزیر اعظم بنتا دیکھ لوں: عمران اسماعیل
- دشمن کو فائدہ پہنچانے والے بیانات سے گریز کیا جائے:مجتبیٰ خامنہ ای
- رکشہ ڈرائیور نے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا ء کرکے زیادتی کا نشانہ بناڈالا
- کورنگی میں اب صرف کام ہوگا ماموں اور مرغا بننے کا وقت ختم ہوچکا مرتضیٰ وہاب
- یوکرین میں ویئر ہاؤس پر روسی حملے میں 27 افراد ہلاک،درجنوں زخمی
- انڈسٹری لگے گی، کاروبار ہوگا تو ملک چلے گا، ہارون اختر
- مائیک ہیسن اور عاقب جاوید شہزادہ چارلس کے عشائیے میں شرکت کیلئے لندن جائیں گے
- کورنگی اور لانڈھی کے صنعتی علاقوں میں بہتری کے لیے 4 ارب روپے خرچ ہوں گے، ناصر حسین شاہ
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔