بیجنگ :اس سال چین اور یورپی یونین کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کی پچاسویں سالگرہ ہے، اور عنقریب چین-یورپی یونین سربراہ اجلاس کا انعقاد ہو گا ۔حال ہی میں بیلجیم کے شہر برسلز میں چین یورپی یونین ہائی لیول اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا تیرہواں دور منعقد ہوا۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای نے یورپی یونین کے اہم رہنماؤں سے ملاقات کی اور جرمنی اور فرانس کا دورہ کیا۔ چینی فریق نے زور دے کر کہا کہ چین اور یورپی یونین کے تعلقات کی ترقی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات ایک مخالف کے بجائے شراکت دار کے ہیں ۔ چین اور یورپی یونین کو دنیا کو یقین فراہم کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیئے ۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور دیگر نے کہا کہ یورپی فریق ایک دوسرے کا احترام کرنے اور چین کے ساتھ تفہیم کو بڑھانے، نئے سربراہی اجلاس کے لئے بہتر تیاری کرنے، یورپی یونین اور چین کے درمیان مزید تعمیری تعلقات کو فروغ دینے اور دنیا میں استحکام، اعتماد اور مثبت توقعات پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔گزشتہ نصف صدی کے دوران ، چین اور یورپی یونین کے تعلقات میں عمومی طور پر مستحکم ترقی دیکھی گئی ہے ۔ جامع اسٹریٹجک شراکت داروں کی حیثیت سے فریقین نے حکمت عملی، معیشت اور تجارت، ڈیجیٹلائزیشن ، ماحولیات و آب و ہوا اور افرادی تبادلے اور ثقافت سمیت پانچ پہلوؤں پر اعلیٰ سطحی مکالمے اور 70 سے زائد بات چیت کے میکانزم قائم کیے ہیں۔ اقتصادی اور تجارتی شعبے میں فریقین کے درمیان سالانہ تجارتی حجم سفارتی تعلقات کے قیام کے آغاز کے حجم 2.4 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 785.8 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے ۔ باہمی سرمایہ کاری تقریباً صفر سے بڑھ کر 260 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور 1 لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں چین-یورپ مال بردا ر ٹرین کے ٹرپس ہو چکے ہیں ۔ یہ سب چین اور یورپی یونین کے درمیان باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی تعاون کی ٹھوس عکاسی کرتے ہیں۔لیکن حالیہ برسوں میں، اندرونی اور بیرونی عوامل کی وجہ سے، یورپی یونین کے کچھ رہنماؤں نے چین کو ” حریف ” کے طور پر سمجھا ہے، “چین کے خطرے کے نظریہ” کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، تائیوان، ہانگ کانگ اور دیگر اندرونی چینی امور میں مداخلت کی گئی ہے اور انسانی حقوق اور سلامتی کے معاملات پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیاہے . یہ عمل جاری رہا تو چین اور یورپی یونین کے درمیان باہمی اعتماد کی بنیاد کو نقصان پہنچے گا۔ اپنے دورہ یورپ کے دوران چینی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ “یورپ کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے،لیکن یہ چیلنجز ماضی، حال اور مستقبل میں چین کی طرف سے نہیں ملے . امید ہے کہ یورپی فریق واقعی چین کے بارے میں ایک معروضی اور منطقی تفہیم قائم کرے گا اور چین کے ساتھ زیادہ فعال اور عملی پالیسی پر عمل کرے گا۔ صرف اسی طرح چین اور یورپی یونین کے تعاون کی مجموعی صورتحال میں سیاسی مداخلت اور مزاحمت کو ختم کیا جا سکے گا ۔ ایک صحت مند اور مستحکم چین یورپی یونین تعلقات نہ صرف ایک دوسرے کے لئے بہتر ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی یہ روشنی کا ضامن ہیں ۔
Trending
- راولپنڈی میں بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم پر عوام کا تشدد، ویڈیو وائرل
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا