کراچی (پی این پی): کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے گھارو اولڈ پمپ ہاؤس کی اپ گریڈیشن کے اہم مرحلے کے تحت 3 اگست صبح 10 بجے سے 5 اگست صبح 10 بجے تک 48 گھنٹوں کے دوران مختلف تکنیکی کام انجام دیے جائیں گے، اس دوران مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر رہے گی۔
ترجمان واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس دوران نئے موٹرز، پمپس، جدید سوئچ گیئرز کی تنصیب اور انرجائزیشن، ایک ہزار کے وی اے ٹرانسفارمر کی منتقلی، کیبل بچھانے اور نئے سوئچنگ سسٹم کو فعال کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا، یہ اپ گریڈیشن مستقبل میں کراچی کو مزید مستحکم، مؤثر اور بہتر انداز میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔
بیان میں ترجمان نے بتایا کہ اپ گریڈیشن کے دوران گھارو نیو پمپ ہاؤس معمول کے مطابق فعال رہے گا اور وہاں سے پانی کی پمپنگ بلا تعطل جاری رکھی جائے گی، تاہم تکنیکی کاموں کے باعث گھارو اولڈ پمپ ہاؤس سے عارضی طور پر تقریباً 25 ملین گیلن پانی کی کمی متوقع ہے جبکہ شہر کو 625 ملین گیلن پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ کراچی کو یومیہ مجموعی طور پر 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے اس لیے اپ گریڈیشن کے دوران پانی کی فراہمی پر محدود اثر پڑے گا۔ اس عارضی کمی کے باعث ابراہیم حیدری، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، پی اے ایف بیس اور کارساز کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوگی۔
سی ای او احمد علی صدیقی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ تمام تکنیکی کام مقررہ مدت میں اور کم سے کم وقت میں مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی میں ممکنہ تعطل اور مشکلات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے گھارو پمپنگ اسٹیشن کی استعداد، کارکردگی اور نظام کی پائیداری میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں کراچی کو مستقبل میں مزید مستحکم، قابلِ اعتماد اور بہتر پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
ترجمان واٹر کارپوریشن نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ مدت کے دوران پانی کا محتاط استعمال کریں اور اپنی ضرورت کے مطابق پانی کا ذخیرہ پیشگی کر لیں۔
PNP
Comments are closed.