بیجنگ :چھیوشی میگزین کے جمعہ کے روز شا ئع ہو نے والےدسویں شمارےمیں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چین کے صدر اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ کا ایک اہم مضمون شائع ہوگا، جس کا عنوان ہے” مرکزی کمیٹی کی جانب سے آٹھ نکاتی قواعد پر مستقل طور پر عمل کیا جائے اور عمدہ طرز عمل کے ذریعے سماجی ماحول کو بہتر بنایا جائے”۔مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پارٹی کا طرز عمل حکمراں جماعت کی بقا کے لئے نہایت اہم ہے۔پارٹی کے طرز عمل کی تعمیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی طویل المدتی اور احسن حکمرانی سے وابستہ ہے۔ مضمون میں شی جن پھنگ نے لکھا ہے کہ سی پی سی کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد سے ہم نے پارٹی کے اندر طر ح طرح کے مسائل اور خامیوں کا سامنا کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کی جانب سے آٹھ نکاتی قوائد کے اجرا ء کے ذریعے پارٹی کے جامع اور سخت انتظام کو آگے بڑھایا، جس کی بدولت پارٹی کے طرز عمل میں اب نیا روپ دکھائی دے رہا ہے ، سماجی ماحول میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آرہی ہے اور عوام کے دلوں میں پارٹی کےتشخص کی ازسر نو تعمیر ہو گئی ہے۔ مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طرز عمل کا مسئلہ بنیادی طور پر پارٹی کی نوعیت سے وابستہ ہے۔ طرز عمل کی تعمیر ہمیشہ جاری رہتی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی۔ سی پی سی سینٹر ل کمیٹی نے پوری پارٹی میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے آٹھ نکاتی قواعد پر گہرائی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کی تعلیم و تربیت کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ رواں سال پارٹی کے اہم فرئض میں سے ایک ہے۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال